وزیر اعلیٰ سندھ کی این سی سی اجلاس میں شرکت، قومی پالیسی کی تجویز
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ- فائل فوٹووزیر اعلی سندھ نےنیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کو لاک ڈاؤن میں 14 روز اضافے، احساس پروگرام سے مستفید ہونے والوں سے گھروں میں رہنے کےلئے گارنٹی لینے اور فواد آئٹمز کی برآمد پر پابندی کی تجاویز دی ہیں۔ مراد علی شاہ نے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حتمی فیصلے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا۔
وزیر اعلی سندھ نے وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
مراد علی شاہ نے کورونا پر قابوپانے کےلئے قومی پالیسی کی تجویز دے دی۔
انکا کہنا تھا کہ جو بھی فیصلہ ہو وزیراعظم کی طرف سے آنا چاہیئے۔ ہم سب وزیر اعظم کے فیصلے پر عملدرآمد کریں گے۔
انکا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں اور اموات بھی ایک مریض صرف 6 گھنٹے میں موت کا شکار ہوگیا۔ ہم مزید 14 روز لاک ڈاؤن رکھنا چاہتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کرنا ہے یا نہیں فیصلہ وزیراعظم کی طرف سے ہونا چاہیئے۔ وزیر اعظم ایس او پی ہمیں بتائیں، وزیر اعظم کی ایس او پی او اپنی ایس او پی سے ٹیلی کریں گے۔ آپ لوگوں کو کیش دے رہے ہیں بہت اچھی بات ہے۔ کیشن کے عوض لوگوں سے 14 روز گھروں میں رہنے کی گارنٹی لیں۔
مراد علی شاہ نے تجویز دی کی فوڈ آئٹمز کی برآمد پر پابندی عائد کی جائے۔
انکا کہنا تھا کہ اگر ہم سرپلس میں بھی ہیں تو فوڈ آئٹمز کی برآمد روک دینا چاہیئے۔ کیونکہ اگلے برس فصل کیسی ہوگی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ افسوس ہے کہ دوست ممالک ہمارے شہریوں کو زبردستی واپس بھیج رہے ہیں۔ مشکل وقت میں دوست ممالک کو ہمارا ساتھ دیناچاہیئے۔
انہوں نے کہا ہم نے 13 مارچ کو جو لسٹ دی تھی وہ آلات درکار ہیں۔ سندھ حکومت 90 فیصد ٹیسٹس کررہی ہے۔ پرائیوٹ سیکٹر کو بھی ٹیسٹس کی پیسے دیتے ہیں۔ وزیراعظم کی قیادت میں معیشت کو بھی بحال رکھیں گے، لوگوں کو کورونا سے بچاناہے۔
وزیراعظم نے وزیر اعلی سندھ کی تجاویز کی تعریف بھی کی۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔